اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ سرینگر / انجمن شرعی شیعیان کے سربراہ اور سینئر حریت رہنما آغا سید حسن الموسوی الصفوی کو دلی سے لوٹنے کے فوراً بعد پھر سے خانہ نظر بند کیا گیا۔
انجمن شرعی شیعیان کے ترجمان نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ تین ماہ سے مسلسل خانہ نظر بندی کے باعث آغا صاحب کی طبیعت گزشتہ ہفتے حد درجہ ناسازگار ہوگئی تھی اور ڈاکٹروں نے موصوف کو دلی جاکر میڈیکل چک اپ کرنے کا مشورہ دیا تھا جس کے بعد ریاستی انتظامیہ نے موصوف کو علاج و معالجے کیلئے دلی جانے کی اجازت دی تھی اس دوران آغا صاحب پاکستانی ہائی کمشنر جناب عبدالباسط سے ملاقی بھی ہوئے۔ ملاقات کے دوران آغا صاحب نے پاکستانی ہائی کمشنر کو کشمیر میں تین ماہ سے جاری مزاحمتی احتجاجی تحریک ، سرکاری فورسز کی جبروبربریت سے پیدا شدہ پریشان کن صورتحال اور کشمیریوں کے تحریک عزم و حوصلے کو توڑنے کیلئے حکومت ہند کی طرف سے ہر محاذ پر کشمیریوں کے خلاف جارحانہ مہم جوئی سے آگاہ کیا۔
آغا صاحب نے اس موقعہ پر اسلامی ممالک کی تنظیم OIC کی طرف سے تنازعہ کشمیر پر کشمیریوں اور پاکستان کے اصولی موقف کی دوٹوک حمایت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے پُرزور اپیل کی کہ وہ حق خود ارادیت کیلئے کشمیر میں جاری تین ماہ کی احتجاجی تحریک اور یہاں کی سنگین صورتحال کی طرف عالمی توجہ مبذول کرانے کیلئے ہنگامی نوعیت کے اقدام کرے۔
آغا صاحب خانہ نظر بندی کے باعث 15 ویں جمعہ کو بھی مرکزی امام باڑہ بڈگام میں نماز جمعہ کی پیشوائی نہ کرسکے۔ آغا صاحب نے وادی کے طول و عرض میں جاری نوجوانوں کی گرفتاریوں کے سلسلے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی انتظامیہ حکومت ہند کے خاکوں میں رنگ بھرنے کیلئے پوری کشمیری قوم کو جیلوں میں مقید کرنے پر تلی ہوئی نظر آرہی ہے۔آغا صاحب نے جیل میں علیل لبریشن فرنٹ سربراہ محمد یاسین ملک کی حالت پر فکرمندی کا اظہار کیا۔
قائد تحریک جناب سید علی شاہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی ،میر واعظ کشمیر مولوی محمد عمر فاروق، جناب شبیر احمد شاہ اور دیگر قائدین و کارکنان حریت کی مسلسل حراست،ائمہ مساجداور خطیب حضرات کے ساتھ ساتھ وسیع پیمانے پر نوجوانوں کو فرضی کیسوں کے تحت PSA عائد کرنے کی کاروائیوں کو بدترین آمرانہ حربوں سے تعبیر کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ کشمیری قوم اس حکومتی دار و گیر سے خوف زدہ ہوکر اپنی مبنی برحق تحریک سے دستبردار نہیں ہونگے۔
ریاستی ملازمین کے خلاف حکومت کی انتقام گیرانہ مہم جوئی کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے آغا صاحب نے کہا کہ سرکاری ملازمین اس قوم کا ایک حساس طبقہ ہے جو اپنی مظلوم قوم پر ڈھائے جارہے جبروتشدد سے لاتعلقی اختیار نہیں کرسکتا۔ حکومت ہنداپنے کشمیری گماشتہ عناصر کی طرح اس حساس طبقے سے بھی ضمیر فروشی کا تقاضا کررہی ہے اور اس مقصد کیلئے ملازمین کی برطرفی کا بزدلانہ حربہ آزمایا جارہا ہے۔ آغا صاحب نے کہا کہ حریت پسند تنظیمیں ملازمین کے خلاف اس مذموم انتقام گیرانہ پالیسی پر خاموش تماشائی کا کردار ادا نہیں کریں گی۔ آغا صاحب نے تاریخی جامع مسجد سرینگر کو گزشتہ تین ماہ سے مقفل کرنے کے ساتھ ساتھ اکثر نماز جمعہ کے مراکز پر نماز ادا کرنے پر قدغن کو دینی معاملات میں بدترین مداخلت کی واضح مثال سے تعبیر کرتے ہوئے اس صورتحال کو ایک سنگین معاملہ قرار دیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲